Sunday, May 4, 2014

فوک وزڈم

 فوک وزڈم

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ایف ایس سی میں تھا - ہم لوگ مظفرآباد (آزاد کشمیر) میں رہتے تھے - بے فکری کے دن تھے - سکول کی بندشوں سے نئے نئے آزاد ہوکر ہم لوگ کالج کی کھلی فضاؤں میں محو پرواز تھے - اس زمانے میں ہم تین دوست ہوا کرتے تھے جن میں سے ایک کے اہل خانہ سیالکوٹ میں مقیم تھے لہٰذا اسکا گھر ہمارا فطری ٹھکانا ہوتا تھا 
 
اس دوست کے والد (الله انہیں جنت نصیب فرمائے) اس وقت ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر تھے انکی عمومی شہرت ایک انتہائی سخت گیر افسر اور انسان کی تھی ہمارے دوست کے ہاں ایک کافی پرانے اور عمررسیدہ ملازم تھے جنکا نام زمان تھا اور انہیں صوفی زمان کے نام سے جانا جاتا تھا - ہم لوگ انہیں زمان پاء جی کہا کرتے تھے- وہ دور بھی کچھ اچھا تھا اورعمر رسیدہ اور پرانے ملازمین کی عزت ظاہراً ہی نہیں بلکہ دلی طور پر کی جاتی تھی اور انہیں گھر کے ایک فرد کی حیثیت ہی دی جاتی تھی - زمان پاء جی ہمارے ساتھ بڑے بے تکلف تھے - دیہاتی پس منظر کا ہونے کی وجہ سے زمان پاء جی کی طبیعت میں صاف گوئی اور اکھڑ پن بھی بدرجہ اتم پایا جاتا تھا - انکے اکھڑ پن کا یہ عالم تھا کہ میرے دوست کے والد صاحب جن سے بحث یا اختلاف کا انکے ماتحت تو کیا ہم منصب بھی تصور نہیں کرسکتے تھے زمان پاء جی ان سے بھی وقتاً فوقتاً بحث اور اختلاف فرمایا کرتے تھے اور زیرعتاب آنے سے بھی بچ جایا کرتے تھے
 
جوانی کے فطری تقاضوں کے پیش نظر ہمارے معمولات میں گاڑیوں میں بے مقصد گھومنا بھی ہوتا تھا جو اتنا  بے مقصد بھی نہیں تھا بلکہ ایک خاص مشن جسے عرف عام میں "پونڈی" کے طور پر جانا جاتا ہے کے تحت ہوتا تھا - اس زمانے کے مظفر آباد میں صرف دو ہی قابل ذکر جگہیں ایسی تھیں جہاں یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا تھا جن میں سے ایک شہر کا اکلوتا گرلز ڈگری کالج جسکے ساتھ ہی گرلز ہائی سکول متصل تھا اور دوسرا شہر کی واحد زنانہ مارکیٹ یعنی مدینہ مارکیٹ تھی - سو عمومی طور پر ہمارے روٹ میں یہ دونوں مقامات شامل ہوتے تھے - اکثر بازار سے سودا سلف وغیرہ لانے کے لئے زمان پاء جی بھی ہمارے ساتھ ہی گاڑی میں ہوتے اور بظاہر غیر متعلق نظر آتے ہوئے بھی ہم پر نظر رکھے ہوتے
 
ایک دن ہم دوست کے گھر بیٹھے ہوئے تھے زمان پاء جی حسب معمول ہمارے لئے چائے لیکر آئے اور حسب عادت باتوں میں حصہ بھی لینا شروع کر دیا - باتوں باتوں میں زمان پاء جی اپنی پہاڑی زبان میں کہنے لگے "یرا تساں کو میں ایک بات سناواں؟" ہم نے کہا جی ضرور
 
اب جو قصہ انہوں نے سنایا میں اسے اردو میں سینسر کر کے سناتا ہوں

ایک پہاڑی بکری چراگاہ پہنچی جہاں ایک گیدڑ کا بچہ جو بہت دیر سے بھوکا تھا، پہلے سے موجود تھا - بکری نے چرنا شروع کردیا - گیدڑ کا بچہ جس نے پہلی دفعہ پہاڑی بکری دیکھی تھی اسے پوری بکری میں سے جو چیز قابل توجہ نظر آئی وہ بکری کے لٹکتے ہوئے تھن تھے - اس نے پہلی بار ایسی چیز دیکھی تھی - اسے بھوک بھی بہت لگی ہوئی تھی اسے لگا کہ یہ ٹوٹ کرابھی نیچے گر جائیں گے اور میں انہیں کھا لونگا کیونکہ بکری کی جسامت کے پیش نظر اس پر حملہ تو ممکن نہیں - بکری اپنی دھن میں چرتی رہی اور گیدڑ بھوکے پیٹ نرم گلابی گوشت کے خوابوں میں مست پیچھے پیچھے چلتا رہا - ہوتے ہوتے شام ہوگئی بکری نے اپنی راہ لی اور گیدڑ نڈھال ہوکر وہیں گر گیا
تم لوگوں کی مثال بھی اس گیدڑ جیسی ہے کہ گاڑیوں میں پیچھے پیچھے پھرتے رہتے ہو ہر لڑکی آرام سے گھر چلی جاتی  ہے اور تم تھک کے واپس اپنے
گھر، ملنا ملانا کچھ بھی نہیں اور خواری الگ
 
اس وقت تو ہم نے زمان پاء جی کی بات سنی ان سنی کردی لیکن کچھ ہی عرصے میں اس کی بہت اچھی طرح سمجھ آگئی
 
حالیہ دنوں میں میڈیا کی جنگ اور سیاسی جماعتوں کی پھرتیاں دیکھ کر نہ جانے کیوں زمان پاء جی کا سنایا ہوا قصہ یاد آ رہا ہے مگر ہماری طرح اس وقت یہ قصہ کسی کو سمجھ نہیں آئے گا اور جس وقت سمجھ آئیگا اس وقت اس کا کوئی خاص مصرف نہیں رہے گا 

15 comments:

  1. واہ جناب ! آپکی تحریروں میں مثال دے کر واضح کرنے کا انثر پایہ جاتا ہے جو کہ بہت ہی عمدہ ہے

    ReplyDelete
  2. یقیناً بہت سارے لوگ اپنے وقت اور سرمائے کو ایسی بے مقصد چیزوں میں صرف کرتے ہیں جس کا حاصل کچھ بھی نہیں....... محض تماشبینی ہے جو کہ شاید ہمارا قومی مشغلہ ہے

    ReplyDelete
  3. بہت اچھی تحریر ھے منصور بھائی،۔۔۔۔
    ،فضول قسم کے کاموں میں وقت ضائع کرنا عادت بن چکا ھے،
    اللہ سب کو ھدایت دے آمین

    ReplyDelete
  4. You gave me a flash back Mansoor. By the way Zaman Chacha is alive,80+,just the usual age related issues, we are still intouch with him.
    Bless you.

    ReplyDelete
    Replies
    1. Babar Bhai, I met him on Bilal's marriage, At that time he was quite fit and talkative as usual. Those were the golden days.

      Delete
  5. بهت عمده تحریر . اپنی گولڈن میموریز سے ایک خوبصورت انتخاب جو آج کے حالات کی درست ترجمانی کرتا هے.

    ReplyDelete
  6. السلام و علیکم منصور بھائی اس تحریر کی خاص بات آپ کا وہ اقرار ہے جو لوگ اپنے ہی منہ سے کرتے ہوئے گھبراتے ہیں مگر کرتے ضرور ہیں مطلب ہمارا قومی کھیل "پونڈی" اور دوسری بات کہ اس تنبیہ کو آپ نے آج کے حالات کے ساتھ جوڑتے ہوئے جو نتیجہ خیز رائے دی اس پر واقعی بہت کم لوگوں کا دھیان گیا ہو گا,
    ہمیشہ کی طرح عُمدہ تحریر کیا سلامت رہیں اور اس سلسلہ کو جاری و ساری رکھیں,

    ReplyDelete
  7. واہ جی واہ۔ آپ نے بہت خوبصورتی سے "پوائینٹ" نوٹ کروایا ہے۔ اور جیسے آپ نے لکھا کہ یہ واقعہ تب سمجھ آتا ہے جب اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بس یہ بتا دیں کہ آجکل پہاڑی بکری کون ہے اور گیدڑ کا بچہ کون؟
    تھن تو خیر دونوں کے ہی مسحور کن ہیں :پ

    ReplyDelete
  8. پوری تحریر زبردست ہے۔ لیکن سب سے زبردست اور اچھوتی بات وہ بکری اور گیدڑ کے بچے کی مثال والی ہے۔

    ReplyDelete
  9. آخری پیراگراف کی پہلی سطر کے علاوہ موضوع بہت ہی قیمتی تھا مگر آپ نے اک ہی جست میں میڈیا کی جنگ اور سیاسی جماعتوں کی طرف رخ پھیر کر اصل موضوع پر سوچنے کا وقت بہت کم دیا قارئین کو -

    کیونکہ آپ کو تو کچھ ہی عرصے میں اس کی بہت اچھی طرح سمجھ آگئی مگر اکثریت جو کہ جوان اور نوجوان ہے اس کو سمجھ نہیں آ رہی بہت لمبے عرصے سے -
    اگر لوگ سمجھ جائیں اور رک جائیں تو میڈیا آپ اپنی موت مر جائے گا کیونکہ عورت کی وجہ سے ہی میڈیا چل رہا ہے ' دیکھا جاتا ہے ' میڈیا کی زینت عورت ذات ہی ہے - جب نرم گلابی گوشت کے خواب آنا کم ہو جائیں گے تو سیاست بھی کاہلی کا شکار ہو ہی جائے گی کیونکہ آج کل سیاست میں بھی بکریاں محور بن رہی ہیں -

    ReplyDelete
  10. سر کیا خوب کڑی ملائی ہے۔۔۔۔ ویسے وہ بھی ایک تفریح تھی اور یہ بھی ایک تفریح ہے۔

    ReplyDelete
  11. ایک سو پچاس فی صد درست کہا
    واہ جی ، فوک مثالوں کی کیا بات ہے
    خوش رہیئں

    ReplyDelete
  12. عمدہ بات کی ہے آپ نے اور یہ صرف میڈیا یا سیاستدانوں تک محدود نہیں بلکہ ہم سب کا یہی حال ہے، سارا سارا دن سوشل میڈیا پر بیٹھ کر اپنی پسند کی پارٹی کی ہر جائز و ناجائز بات کا دفاع اور مخالفوں کے بخیے ایسے ادھیڑتے ھیں ہم کہ گویا عبادت کر رہے ہوں۔

    ReplyDelete
  13. ya banda agar kashmiri hai, phir to ya pakistani ni ho sakta, or na he hona chaiye(allah na kare ye kabi esa sochay be) baki rahi en ki baat to, wo to sub janday hain, ye sub khel pakistan k wardi walay gundon ne kheel rakha hai

    ReplyDelete

Kindly comment, analyze and criticize, both ways positive and negative but only one request keep your comments within decency limits. No vulgarity or below the belt comments please. Indecent comments will be deleted without intimation.